مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے شمال مغرب اور مغربی علاقائی ہیڈکوارٹرز میں ایک ہزار سے زائد سرکاری رہائشی یونٹس، ’’مہر ولایت 3‘‘ گیسٹ ہاؤس، ایک قرآنی اسکول، فوجی اہلکاروں کے لیے ہنر سکھانے کے ورکشاپ اور بری فوج کے شمال مشرقی علاقائی ہیڈکوارٹرز کے متعدد تعمیراتی منصوبوں کا افتتاح، ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے دیگر فوجی کمانڈروں، شہداء اور ایثارگران کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں مشہد میں بالمشافہ اور دیگر یونٹس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کیا۔
میجر جنرل حاتمی نے اس موقع پر شہداء، بالخصوص شہید رہبرِ انقلاب اور میجر جنرل شہید موسوی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے تقرر کے وقت شہید رہبرِ انقلاب اسلامی کی جانب سے انہیں سونپی گئی ذمہ داریوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی جنگی صلاحیت میں اضافہ، بصیرت و معنویت کا فروغ اور فوجی اہلکاروں کے معاشی و معاشرتی حالات میں بہتری وہ چار بنیادی محور تھے جو سپریم کمانڈر شہید رہبر کی جانب سے مجھے سونپے گئے تھے۔ آج پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ چاروں حکمتِ عملیاں مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے آمادگی کے بنیادی ستون ہیں۔
انہوں نے رہائشی اور فلاحی منصوبوں کے نفاذ پر بری فوج کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’مہر ولایت‘‘ جیسے منصوبوں کا نفاذ بالکل انہی ذمہ داریوں کی تکمیل کی سمت ایک قدم ہے جو شہید رہبرِ انقلاب اسلامی کی جانب سے سونپی گئی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگی آمادگی صرف فوجی سازوسامان پر منحصر نہیں، بلکہ ہر فوج کا سب سے اہم سرمایہ اس کا انسانی عنصر ہے۔ اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے اطمینان، حوصلے اور ذہنی سکون میں اضافے کے لیے کیا جانے والا ہر اقدام درحقیقت ملک کی دفاعی طاقت کو مضبوط بنانے میں سرمایہ کاری ہے۔
آج کی جنگ؛ قوموں کے عزم اور استقامت کی جنگ
میجر جنرل حاتمی نے بری فوج کے شمال مشرقی علاقائی ہیڈکوارٹرز کے کمانڈروں سے ملاقات میں کہا کہ جنگ صرف آلات اور ہتھیاروں کے استعمال کا نام نہیں ہے، بلکہ آج کی جنگ قوموں کے عزم، فکر اور استقامت کی جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے باوجود سازشوں اور نئے خطرات کی منصوبہ بندی سے باز نہیں آیا۔ اسی لیے ہم دشمن کے قلیل مدتی، درمیانی مدتی اور طویل مدتی اہداف پر مسلسل نظر رکھتے ہیں اور دشمن کے کسی بھی ممکنہ منظرنامے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی آرمی چیف نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی ایران ان کی سازشوں اور مہم جوئیوں کے تجربات کا میدان نہیں بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج، ایمان، تجربے، آمادگی اور عظیم ایرانی قوم کی حمایت پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیں گی اور ملک کی آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کا پوری قوت سے دفاع کریں گی۔
امیرحاتمی نے مزید کہا کہ ہمیں دشمن کو ناکام بنانا ہوگا اور اس کی ناکامی کا ذائقہ اس قدر تلخ کرنا ہوگا کہ اسے معلوم ہو جائے کہ ایران وہ جگہ نہیں جہاں دنیا کے دوسرے سرے سے کوئی آ کر یہ کہہ دے کہ میں اس ملک کا نقشہ تبدیل کر دوں گا۔ ہم 10 نسلیں، بلکہ 20 نسلیں بھی لڑیں گے اور ہرگز ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کو یہ بات سمجھانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اسے طاقت کی زبان میں سمجھایا جائے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کوئی اقدام نہیں کر سکتا۔
آپ کا تبصرہ